کاروار18/اگست (ایس او نیوز) ابھی دو دن پہلے ملک کی خفیہ ایجنسی نے سمندری راستے سے دہشت گردانہ حملہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا جس کے بعد پوری ریاست کرناٹکا میں اور بالخصوص ساحلی کرناٹکا میں ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
مگر تعجب اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ساحلی علاقے کی نگرانی کرنے کے لئے کوسٹل سیکیوریٹی پولیس کو کروڑوں روپے لاگت کی جدید ترین اور تیز رفتار 3 انٹر سیپٹرکشتیاں حکومت کی طرف سے فراہم کی گئی ہیں ان تینوں کشتیوں کو سمندر میں اتارا نہیں گیا بلکہ ضلع شمالی کینرا کے بیت کول بندرگاہ کے علاقے میں واقع شیڈ کے اندر پوری طرح حفاظت کے ساتھ ڈھانپ کر رکھا گیا ہے۔اس بارے میں پوچھنے پر مزید حیرت انگیز جواب یہ مل رہا ہے کہ ان کشتیوں پر رنگ چڑھانا اور کچھ مشینیں لگوانا ابھی باقی ہے۔ اس سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بارش کے موسم میں جب ان کشتیوں کو شیڈ میں لایا گیا تھا تو اس کی ضروری دیکھ بھال اور مرمت وغیر ہ کا کام کیوں نہیں انجام دیاگیا اور جب ایسی کشتیوں کی اشد ضرورت سامنے آئی ہے تو اسے شیڈ کے اندر بند رکھنے کا مطلب کیا ہے؟
جب اگست کے مہینے سے موٹر بوٹس کے ذریعے ماہی گیری شروع ہوگئی ہے تو کوسٹل سیکیوریٹی پولیس کے لئے ضروری ہوجاتا ہے کہ گشت اورنگرانی کے لئے ان کشتیوں کوسمندر میں اتاریں،لیکن ماہی گیری کا سیزن شروع ہوکر تقریباً ایک مہینے بعد بھی اگر انتہائی ضرورت پیدا ہونے کے باوجود کشتیاں دستیاب نہیں تو اسے بے پروائی کی حد کہا جاسکتا ہے۔ ہر سال اسی طرح کاغیر ذمہ دارانہ رویہ اپنانے کی وجہ سے خود کوسٹل سیکیوریٹی پولیس کے افسران کی فرض شناسی پر سوال اٹھنا فطری ہوگیا ہے۔